تضیع اوقات

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وقت کا برباد ہونا، عمر کارائیگاں جانا۔ "جس شے کا وجود نہ ہو اس کی تلاش تضیع اوقات ہے۔"      ( ١٩٧١ء، فوٹو گرافی، ٣١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تضیع' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'وقت' کی جمع 'اوقات' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٨ء میں "دعوت اسلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وقت کا برباد ہونا، عمر کارائیگاں جانا۔ "جس شے کا وجود نہ ہو اس کی تلاش تضیع اوقات ہے۔"      ( ١٩٧١ء، فوٹو گرافی، ٣١ )

جنس: مذکر